ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ (1937-2025)…… ایک پاکیزہ رُوح

 

تحریر :  پروفیسر عامر زریں 

ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ ایک انتہائی معزز دانشور، ماہر تعلیم، اور انسان دوست شخصیت کی حیثیت سے اپنی معتبر پہچان رکھتی تھیں۔ وہ تعلیمی اصلاحات، خواتین کو بااختیار بنانے اور انسانی حقوق میں اپنی خدمات کے لئے جانی جاتی تھیں۔تعلیم اور قومی ہم آہنگی کے بارے میں وزیر اعظم کے خصوصی مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن رہیں۔

ڈاکٹر عارفہ نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے اُردو میں ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں آپ نے منووا کی یونیورسٹی آف ہوائی سے ایشین اسٹڈیز میں ماسٹر آف آرٹس اور تاریخ کی ڈگری حاصل کی، اورفلسفہ میں ڈاکٹر یٹ مکمل کیا۔ اُن کے 1983 ء کے مقالے کا عنوان، ”سر سید احمد خان، 1817-1898: ایک مشن کے ساتھ انسان،“ تھا۔آپ یونیورسٹی آف ہوائی 2016 ء کی ممتاز سابق طلباء ایوارڈ یافتہ تھیں۔

ڈاکٹر عارفہ زہرہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ایمریٹس تھیں اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی پرنسپل بھی رہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن اور پنجاب کی نگراں صوبائی وزیر بھی رہیں۔ وہ اُردو زبان اور ادب کے بارے بھی اپنی معتبر پہچان رکھتی تھیں، دانشورانہ تاریخ اور جنوبی ایشیا کے سماجی مسائل کے علم میں ماہرمانی جاتی تھیں۔ یونیورسٹی کے دائرے سے باہر، وہ لینگویج کانفرنسز اور ٹیلی ویژن فورمز میں ایک سینئر مقرر کی حیثیت سے مدعوع کی جاتی تھیں۔

1966 ء سے 2002 ء تک ڈاکٹرعارفہ زہرہ معروف تعلیمی اداروں اور جامعات میں تدریسی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہیں۔ 2002 ء سے 2005 تک وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی رُکن رہیں۔ ڈاکٹر عارفہ نے اگست 2009 ء میں فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کے پروفیسر کے طور پر فیکلٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ معروف تعلیمی اداروں میں وزیٹنگ فیکلٹی ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔ان کی تحقیق، دانشورانہ تاریخ، تاریخی تجزیہ و تنقید، انسانی حقوق، صنفی ادب اور سماجی مسائل کے شعبوں میں تھی۔ صنفی ادب کے حوالے سے اُن کی تصنیف، ”عورت……دیس دیس سے عورتوں کی منتخب کہانیاں (1991)“ ای۔ بک کی حیثیت سے منظرِ عام پر آئی۔

ڈاکٹر زہرہ اُردو زبان و ادب میں جداگانہ پہچان کی حامل تھیں۔ ڈاکٹر عارفہ زہرہ نے زبان کے مسلسل استعمال، کتابوں تک رسائی، اور پاکستانی نوجوانوں کے اپنی قومی زبان کے لیے ”ادبی انقلاب” کی وکالت کی۔زبان ہی پر، انہوں نے زبان بولنے والوں اور زبان کے بارے میں تصورات پر طبقاتی اور نوآبادیاتی اثرات کے بارے میں بات کی۔ اُن کے ادبی اثرات میں غالب ؔاور سر سید احمد خان شامل ہیں۔ انہیں ایک مورخ اور زبان پر اعتدال پسند شخصیت کے طور کے طور پر سراہا گیا۔

ڈاکٹر زہرہ ترقی، بنیادی انسانی حقوق اور صنفی مساوات کی حامی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کبھی بھی کسی غیر سرکاری تنظیم کی باضابطہ رکن نہیں رہیں، بلکہ ہمیشہ انہوں نے تعلیم کے ذریعے کام کرنے کو ترجیح دی۔وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن تھیں اور خواتین کے بنیادی قانونی حقوق پر اعتدال پسند تھیں۔ خواتین کی مساوات اور برابری کے لیے ڈاکٹر زہرہ کا کام ایک ایسا عنصر تھا جس کی وجہ سے ا نہوں نے خواتین کے کالج میں پڑھانے کا انتخاب کیا۔
آپ ایک شاندار اور طویل تدریسی، ادبی اور دانشورانہ کیرئیر کی حامل شخصیت تھیں۔ 10نومبر 2025 ء کو 88 سال کی عمر میں لاہور میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

ڈاکٹر عارفہ زہرہ کی مختلف تعلیمی فورمز پر کی گئی بات چیت اور تقاریر سے لئے گئے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں، جو کہ اُن کی تعلیمی، ادبی اور سماجی بصیرت کے آئینہ دار ہیں۔ اس لئے ایک وہ خواتین کے بنیادی اور سماجی حقوق پر برملا اظہارِ کرتی تھیں، اس لئے ان کے یہ منتخب اقتباسات زیادہ تر ان موضوعات سے متعلق ہیں۔
”عورت کے پاس کوئی کمزور طاقت نہیں، وہ اپنے دل کی طاقت سے سب کچھ جیت سکتی ہے۔“……”زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ وقت کبھی پلٹ کر نہیں آتا۔“……”تہذیب و تمدن کی سب سے بڑی علامت انسان کا اخلاق ہے۔“……”محبت اور علم وہ خزانے ہیں جو تقسیم کرنے سے بڑھتے ہیں۔“……”حقیقی علم وہ ہے جو دل کی روشنی بنے۔“……”ہر مشکل میں ایک سبق پوشیدہ ہوتا ہے، اسے پہچاننا سیکھیں۔“……”عقل مند وہ ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے۔“ …… ”خواب وہ نہیں جو سو کر دیکھے جاتے ہیں، خواب وہ ہیں جو جاگتے ہوئے پورے کیے جاتے ہیں۔“……”تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔“……”اپنے آپ پر یقین رکھو، یہی سب سے بڑی طاقت ہے۔“……”محبت کا تعلق دل سے ہے، اسے صرف دل سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔“……”حقیقت کی پہچان انسان کو آزاد کر دیتی ہے۔“……”معاشرتی تبدیلیاں تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔“……”خوشی وہ ہے جو آپ دوسروں میں بانٹتے ہیں۔“……”زندگی کی اصل خوبصورتی تعلقات میں ہے۔“……”حکمت وہ ہے جو تجربات سے حاصل ہوتی ہے۔“……”انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کی خود کی نااہلی ہے۔“……”زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت کرنا ہے۔“……”احترام وہ بنیاد ہے جس پر ہر مضبوط تعلق قائم ہوتا ہے۔“ ……”انسان کا اصل امتحان اس کے کردار میں ہوتا ہے۔“

ڈاکٹر عا رفہ سیدہ زہرہ کی وفات پر ادبی اور سماجی حلقوں نے تعزیت کرتے ہوئے اُن کی شخصیت اور اُن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ”……ڈاکٹر صاحبہ وہ اُن نادر ہستیوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے فکر، نظر، جذبہ، عقل اور دلکشی کو مجسم کیا۔ ایک تخلیقی ذہن، اس کے کام، سوچ، لکھنے، بولنے اور اختراع میں گہرائی کی عکاسی کرتا ہے، جس کی جڑیں تاریخ، ادب اور ثقافت کے بین الضابطہ دائروں میں ہیں۔“
اقرا یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ، ”وہ اپنے پروفیسر ایمریٹس اور IU کی اکیڈمک کونسل کی ایک قابل قدر رکن ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے، وہ ایک معروف ماہر تعلیم، اسکالر، اور انسانی حقوق کی کارکن تھیں۔اُن کی وفات پاکستان کی علمی اور ثقافتی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔، ڈاکٹر زہرہ کی آواز تعلیم، خواتین کے حقوق اور اُردو ورثے کے لیے ان کی انتھک محنت سے ہمیشہ گونجتی رہے گی۔“
یقینا ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کی ادبی، انتظامی، سماجی اور ثقافتی حلقوں میں سرانجام دی گئی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اور خاص کر تعلیم اور ادب میں اُن کی روشن کی گئی راہنمائی اور تدریس کی شمعیں موجودہ اور آنے والی نسلوں کی پیش رو رہیں گی۔

 

 

نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

By admin

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from دی وائیٹ پوسٹ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading