تحریر ۔۔احسان بخش
روتھ کیھترینہ مارتھہ فائو ایک جرمن ایک کیھتو لک مسیحی خاتون جو کہ خود کو مذہب کے لئے وقف کرنے کے بعدسسٹر بنی جس کی خدمات نے ملک پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خاتمے میں ایک لا زوال کردار ادا کیا روت فائو جو کہ ،،سوسائٹی آف ڈاٹرز آف ہارٹ آف میری ،،کی ممبر تھیں آپ 9ستمبر 1929کو لپزنگ جرمنی میں پیدا ہو ئیں ابتدائی تعلیم حاسل کرنے کے بعد آپ نے ڈاکٹری کی ڈگری لی اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہو گئیں ۔ لیکن خدا کو ان سے اپنا کام لینا تھا وہ بطور سسٹر مذہبی خدمت کے لئے وقف ہوئیں اور 1961میں پاکستان آئیں تا کہ یہاں پر کوڑھ کے پھیلتے ہوئے مرض کی روک تھام کی جا سکے اور آئی ، آئی چندریگر روڈ سے متصل ریلوے کا لونی میں جذام ( کوڑھ ) کا ایک کلینک کھولا جو کہ بعد میں ہسپتال بن گیا اور آپ نے اپنی ساری جوانی ان مریضوں کی خدمت کرتے گزار دی جن کو ان کے گھر والے بھی چھوڑ جا تے ہیں،آپ نے کوڑھ کے خاتمے کے لئے ملک کے طول و عرض میں سفر کیا اور کو ڑھ کے علاج کے لئے ملک گیر سطح پر کام کیا ۔ اس نے مرنے سے پہلے 3 خواہشات کا اظہار کیا تھامیرا علاج کسی صورت وینٹی لیٹر پر نہ کیا جاے۔ -1-میری میت لپریسی سینٹر سے اٹھائی جاے۔ –میری تدفین عروسی لباس پہنا کر کی جاے۔ -میت لپریسی سینٹر آئی تو سب کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ان کی تیسری خواہش کا بھی احترام کیا گیا سرخ جوڑا پہنا کر تابوت میں لٹایا گیا تو سکون ان کے چہرے پر تھا۔ روتھ فا نے شادی نہیں کی تھی راہبہ تھیں اپنے عقیدے کے مطابق انہوں نے دنیا تیاگ دی تھی ۔ شائد وہ آخرت میں خداوند سے خوشیوں اور سرخ جوڑے کی تمنا رکھتی ہوں گی۔سالہ جرمن ڈاکٹر نے 1961 میں کراچی کی ایک 29 کچی بستی میں قیام کا فیصلہ کیا تو سب حیران رہ گئے۔ تب لوگ کوڑھ کے مریضوں کو لاعلاج سمجھ کر گھر سے باہر ڈال دیتے تھے تاکہ باقی افراد اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور وہ مریض وہیں سسک سسک کر مرتے رہتے۔وہ مریض جنہیں اپنے ہاتھ نہیں لگاتے تھے ڈاکٹر رتھ فاو نے ان کے علاج کا بیڑہ اٹھایارتھ فا نے ابتدا میں آئی آئی چندریگر سے متصل ریلوے کالونی میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی اور کوڑھ کے مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستان میں جزام کے علاج کے لئیے 157 کلینک قائم کئیے جہاں تقریبا ستاون ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔عالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کو لپریسی کنٹرول کرنے والا ملک قرار دے دیا میں انہیں پاکستانی شہریت کا اعزاز دیا گیا 1988 یہ پاکستان میں اپنی زندگی کے 55 سے زائد برس ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہیں۔ چارپائی نما بستر سرہانے رکھا کولر میز پر چند کتابیں اور سائڈ میز پر رکھے کچھ ضرورت کے برتن۔ یہ ان کی کل کائنات تھی۔روتھ فا نے کبھی اپنی یا اپنے کام کی تشہیر نہیں چاہی 87 سال کی عمر میں 10 خاموشی سے کام کرتی رہیں اور 2017 کو خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اگست ان کی وفات کے بعد ان کی میت کو اسٹیٹ پروٹوکول دیا گیا اور وہ گورا قبرستان کراچی میں آسودہ خاک ہیں انہیں حکومت پاکستان نے ان کی گرانقدر خدمات کے عوض ہلال پاکستان ہلال امتیاز ستارہ قائد اعظم اور نشان قائد اعظم جیسی اعلی تریں ایوارڈز اور اعزازت سے نوازا۔ایک اکیلی رتھ فا نے خاموشی سے پاکستان سے کوڑھ جیسے موذی مرض کا خاتمہ کر دیا۔آج جب لوگ تمام تر وسائل کے باوجود کہتے ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا ورنہ ہم پاکستان کو کیا بنادیتے توڈاکٹر رتھ فا یاد آجاتی
ہیں کہ کام کرنے کے لئیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خدمت کے جذبے، عزم اور قربانی کی ضرورت ہو تی ہے ایسے لوگ بہت کم ہو تے ہیں جو خدا کی راضا کے لئے کام کر یں اور اپنا اجر انسانو ں کی بجائے خدا سے ما نگیں روتھ فا ئو نے نہ کسی کا مذہب ، نہ عقیدہ ، نہ شہریت ، نہ ذات برادری پوچھی بس مریض کے طور پر سب کو یکساں طور پر اپنی خدمات دیں ،اور انہوں نے اپنی ساری عمر اس معراج کو پا نے میں صرف کر دی جس سے متعلق علامہ اقبال نے کہا ہے۔
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا ۔۔۔۔ مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
