انسانی معاشروں کی تفہیم کے لیے ماہرینِ سماجیات نے نسل انسانی میں تقسیم بندی کی ہے ۔ یہ تقسیم محض سنِ پیدائش کا حساب نہیں بلکہ اس اجتماعی شعور کی عکاس ہے جو مختلف ادوار میں تشکیل پاتا ہے۔ ہر نسل اپنے وقت کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات سے اثر قبول کرتی ہے، اور انہی اثرات کی کوکھ سے اس کی سوچ، ترجیحات اور ردِعمل جنم لیتا ہے بومرز، جنریشن ایکس، میلنیئلز اور اب جنریشن زی—یہ سب تاریخ کے اسی مسلسل سفر کی مختلف منزلیں ہیں۔
آج عالمی سطح پر سب جس نسل کا سب سے زیادہ چرچہ ہے وہ ہے جین زی ۔ یہ وہ نسل ہے جس نے آنکھ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور فوری معلومات کے ہنگامہ خیز ماحول میں کھولی۔ اس نے ریاستی بیانیے کو بلا چون و چرا قبول کرنے کے بجائے، اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے حقائق پر زیادہ بھروسا کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ نسل خاموش تماشائی بننے کے بجائے سوال کرتی ہے، اختلاف کرتی ہے اور بسا اوقات سڑکوں پر بھی نکل آتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں جو سیاسی ہلچل دیکھنے میں آئی، اس میں جنریشن زی کا کردار نمایاں رہا۔ بنگلہ دیش میں نوجوانوں نے معاشی بدحالی اور سیاسی جبر کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان میں نوجوان تبدیلی اور انصاف کے نعروں کے ساتھ متحرک نظر آئے۔ بھارت میں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کی سیاسی شمولیت میں اضافہ ہوا۔ ترکی میں نوجوانوں نے جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کے حق میں مزاحمت کی، جبکہ امریکہ میں بھی نوجوان نسل نے سیاسی مباحث میں غیر معمولی سرگرمی دکھائی۔
ان تمام مثالوں میں ایک قدرِ مشترک واضح ہے: نوجوانوں نے احتجاج کیا، قربانیاں دیں، آواز بلند کی—مگر اقتدار کی کرسی تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ ہر جگہ جنریشن زی کو متحرک تو کیا گیا، مگر فیصلہ سازی کے مراکز تک رسائی نہ دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک تلخ حقیقت پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ جنریشن زی بومرز کے بنائے ہوئے نظام سے نالاں ضرور ہے، مگر اسی نظام کے محافظ بومرز اس نسل کے جذبات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا خوب جانتے ہیں۔ نوجوانوں کے غصے کو احتجاج میں بدلا جاتا ہے، احتجاج کو دباؤ میں، اور دباؤ کے نتیجے میں اقتدار کی بس میں وہی پرانے مسافر سوار ہو جاتے ہیں۔ جنریشن زی کو یوں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے—چلتے رہو، مگر منزل کسی اور کی ہے۔
یہ کہنا ناانصافی ہوگی کہ جنریشن زی کے مسائل فرضی یا مبالغہ آمیز ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور روزگار کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج، طبقاتی عدم مساوات اور سیاسی منافقت—یہ سب اس نسل کے روزمرہ تجربات ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض مسائل گنوانا ہی سیاست ہے؟ کیا نظام پر تنقید کرنا ہی تبدیلی کا واحد راستہ ہے؟
ریاست جذبات سے نہیں، اداروں سے چلتی ہے۔ سیاست نعروں سے نہیں، حکمتِ عملی سے آگے بڑھتی ہے۔ جنریشن زی کے پاس اظہار کی طاقت ضرور ہے، مگر اس طاقت کو ادارہ جاتی قوت میں تبدیل کرنے کا عمل ابھی ادھورا ہے۔ یہی خلا بومرز کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو استعمال کریں اور خود اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لیں۔
جنریشن زی یہ تو جانتی ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے، مگر یہ کم جانتی ہے کہ متبادل نظام کی تشکیل کیسے کی جائے۔ اس کے پاس سوالات کی بہتات ہے، مگر جوابات کی قلت۔ وہ نظام گرانا چاہتی ہے، مگر نیا نظام کن اصولوں اور بنیادوں پر کھڑا ہوگا—اس پر سنجیدہ اور مربوط مکالمہ کم ہی نظر آتا ہے۔
جنریشن زی کی اصل آزمائش یہی ہے۔ اگر یہ نسل واقعی تاریخ کا دھارا موڑنا چاہتی ہے تو اسے احتجاج کے ساتھ ساتھ تیاری بھی کرنا ہوگی۔ آئین، معیشت، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو سمجھنا ہوگا۔ سیاست کو محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی ذمہ داری کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔
تاریخ کا سبق بالکل واضح ہے:
جو نسل صرف شور مچاتی ہے، وہ استعمال ہوتی ہے؛
اور جو نسل سوچ، تیاری اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، وہ اقتدار تک پہنچتی ہے۔
اب فیصلہ جنریشن زی کے ہاتھ میں ہے—
یا تو وہ بومرز کے لیے ایندھن بنی رہے،
یا پھر خود کو تیار کرے
