تحریر: اعظم معراج
ہم پاکستانی مسیحی ہیں۔۔ویسے ہم انفرادی طور پر، کارڈینل، بشپ، سینٹر ، ایم ،این اے ،ایم پی ایے ۔این جی اوز کے مالک بھی ہیں ۔ہماری رسائی پوپ ، بشپ آف کنٹربری کے دفاتر،سے برطانوی، اطالوی ، یورپی یونین پارلیمنٹ کے ساتھ وائٹ ہاوس تک ہے۔۔ ہم صدر، پاکستان، وزیر اعظم پاکستان تک بھی پہنچ رکھتے ہیں۔۔۔لیکِن اجتماعی طور اکثر مجھے لگتا ہے ، کہ ہم کیڑے مکوڑے یا کوئی بے جان پتھر ہیں ۔۔ جنکی ریاستی ،سیاسی و حکومتی اشرفیہ کو ذرا بھر پروا نہیں۔۔اور یہ احساس آئین کی شقیں ،عمومی معاشرتی روپے میڈیا کی بے حسی (جسے نہ صرف ہمارے مسیحو بلکہ تقریبا ایک کروڑ کے قریب مذہبی اقلیتوں کے اجتماعی مسائل کو آجاگر کرنے کے لئے کسی سانحے کا انتظار رہتا ہے۔)۔۔اور حکومتی اداروں کی بے اعتنائی یہ بات ہر وقت ثابت کرتی رہتی ہے ۔ چند اعدادوشمار پیش خدمت ہیں۔۔ان اعدادوشمار سے آنے والا زخم ہمیں انفرادی طور تو کماد کے پچھ( گنے کے پتے کی کاٹ) سے زیادہ نہیں لگتا ، لیکِن جب سے یہ اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ ان پر حکومتی اداروں کی خاموشی، عجیب کم مائگی کا احساس دیتی ہے۔۔۔۔ ہم مسیحی 2023 پاکستان کی ساتویں مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 3300788 ہیں ۔ ہم 2017 کی چھٹی متنازعہ ترین مردم شماری سے پہلے پانچویں مردم شماری تک مجعوعی اقلیتی آبادی کا اوسط 46 فیصد ہوتے تھے۔۔ جنھیں غلطی سے یا جان بوجھ کر مسیحی وزیر شماریات کے ہوتے ہوئے۔۔ یک لخت 36 فیصد کردیا گیا۔ جس سے ان چھ مردم شماریوں کے اعدادوشمار کے مطابق ہی تقریبا ساڑھے سات لاکھ مسیحو کو وزرات شماریات کے کاغذوں سے مٹا دیا گیا۔۔ انھیں اعدادوشمار کے مطابق پہلی پانچ مردم شماریوں میں مسیحی دو مردم شماریوں میں مجعوعی ہندو آبادی سے اوسط 20 ہزار زیادہ اور تین بار 1 لاکھ 62 ہزار اوسط کم تھے۔۔جبکہ چھٹی مردم شماری میں مسیحی یک لخت مجعوعی ہندو آبادی سے تقریبا سترہ لاکھ کم ہوگئے۔۔ یہ ہی غلطی یا واردات 2023 کی مردم شماری میں دوہرائی گئی۔۔ان اعدادوشمار کے مطابق یا تو تقریبا 8 لاکھ یا پھر 17 لاکھ مسیحو کی اجتماعی کاغذی نسل کشی کی گئی۔۔ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ
ہماری اجتماعی شناخت بارے ہماری ہر طرح کی اشرافیہ کا رؤیہ کیا ہے۔۔انھیں اتنی بھی پرواہ نہیں کہ ہماری غلطی سے یا جان بوجھ کر کی گئی کاغذی نسل کشی کرنے سے پہلے ماضی کے اعداد شمار میں بھی رد بدل کر لیتے ۔۔ یہ شائد ممکن نہ تھا۔ کیونکہ راولپنڈی کے ایک صحافی کی لگا تار کوشش سے 1998 تک کے پہلی پانچ مردم شماریوں کے اعدادوشمار 2017 میں ہی پبلک ہوچکے تھے۔۔2018 میں جب سے ان اعدادوشمار کی پڑتال منظر عام پر آئی ہے۔۔تب سے ہماری اس کاغذی نسل کشی پر ہمارا مسیحو خاص کر ہمارے اول الذکر خواتین حضرات انفرادی و اجتماعی ردعمل بھی انتحائی مایوس کن ہے ۔۔۔جب میں ہمارے ان لوگوں کو انفرادی طور پر ویٹیکن، وائٹ ہاؤس ،یورپی یونین، اطالوی، برطانوی پارلیمنٹ، اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدارتی محل،وزیراعظم ہاؤس اور اسکے تینوں ایونوں میں میں آتے جاتے دیکھتا ہوں ۔۔تو مجھے اپنے آپ سے گھن آنے لگتی ہے۔۔ سوچتا ہوں ۔ہم کیا ہیں ؟؟ہمارا خمیر کس مٹی سے بنا ہے۔؟؟۔ ہمارے سماج کی ساخت کیا ہے ۔؟؟۔ جو چیزیں مُجھے اجتماعی طور پر کھا جاتی ہیں ۔۔وہ ہمیں انفرادی طور پر کماد کے پچھ جتنا بھی محسوس نہیں ہوتی۔۔ ہم کیاہیں؟؟۔۔کیا ہمیں انفرادی ترقی وبقاء اتنی عزیز ہے کہ ہم اس کے لئے اجتماعی فنا کے راستوں پر چل نکلے ہیں ۔؟ ۔ یا ہماری یہ اشرفیہ پاگل ہے ؟ ۔جو ہمیں اپنے سر کے تاج، اپنی مقدس امانت (بقول انکے ورنہ دنیاجہاں میں اپنے شہریوں کوئی اسطرح کےالفاظ سے معاشرے سے کاٹتا ہے) کو گندے پاوں سے روندتے چلی جارہی ہے ۔ اور ہم اجتماعی طور پر اف نہیں کرتے۔ہاں جہاں بات ذات کی یا زاتی مفاد کی ہو۔۔ کاروباری موقع کی ،ہو تو ہم کشتوں کے پشتے لگا اور لگوا دیتے ہیں ۔ اپنے ذاتی شکار کے لئے چارے کی تلاش میں اکثر ہم لوگ آپس میں دست وگربیان بھی ہوجاتے ہیں ۔۔۔مُجھے سمجھ نہیں آتی ہم اجتماعی طور بے سمتے ہیں،؟ کم عقلے ہیں؟؟ یا کم ہمتے ہیں ؟؟۔۔یا انفرادی طور پر ایسے جانور ہیں ۔۔جسے پیٹ سے اگے نہ کچھ سجھائی دے نہ ہی دکھائی دے ۔اس لئے ہم ذاتی فائدے میں تو ایسی، ایسی پیچیدہ گھتیاں بھی سلجھا لیتے ہیں ۔۔جو بڑے بڑے ماہرین سمجھ نہیں پاتے، لیکِن اجتماعی طور ہمیں دو جمع دو جیسے سادہ سوال سمجھ نہیں آتے۔۔ مثلآ اگر اقلیتی انتحاہی نظام شفاف اور انصاف پر مبنی ہوجاتا ہے۔۔ تو پاکستان کی ایک کروڑ اقلیتوں کے لئے یوسی سے قومی اسمبلی تک تقریبا 10 ہزار سیاسی ورکر، اپنی، اپنی کمیونیٹز سے جڑے ہوئے خواتین حضرات ریاستی و حکومتی وسائل سے لیس ہو کر ان ایک کروڑ غیر مسلم شہریوں کے لئے ریاست، حکومت کے درمیان ایسا پل بن سکتے ہیں۔۔جو انکے ہرطرح کے سماجی، معاشرتی، مذہبی مسائل کی مسلسل نشان دہی کے ساتھ انھیں حل کرنے کی جستجو میں بھی کوشاں رہے گے۔ اور یہ خودکار نظام کسی بین الاقوامی مدد کا بھی مرہون منت نہ ہو گا۔۔اس میں کوئی شک نہیں 26 کروڑ کے معاشرتی نا انصافی پر مبنی معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کو ہزاروں طرح کے مسائل درپیش ہیں۔ جن کو حل کرنے کے لئے اول الذکر خواتین حضرات دن رات بظاہر کوشاں بھی نظر آتے ہیں۔۔ لیکن ان کوششوں کے ثمرات ان سرکاری کھاتوں میں 33 لاکھ اور انھی سرکاری اعدادوشمار میں پوشیدہ ذرا غور سے دیکھنے پر 41 لاکھ یا 51 لاکھ نہ مسیحو اور نہ ہی تقریبا 1 کروڑ مذہبی اقلیتوں میں سے سرکاری کاغذات میں نظر آتے 13 لاکھ اور انھی اعدادوشمار میں پوشیدہ تقریبا 30 لاکھ شیڈول کاسٹ کی زندگیوں میں نظر آتے ہیں۔ کیا ان 78 سال کی سیاسی سماجی اور مذہبی ورکروں کی دن رات کوششوں کی ناکامی کی وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں کے غلطی کہا ہوئی ہے۔۔ ورنہ اگر صرف مسیحی آبادی کو ہی بطور کیس اسٹڈی لے لیا جائے تو جتنی وسائل، وقت، کی سرمایہ کاری اول الذکر خواتین حضرات اور انکے کے پیشروں، نے 31،لاکھ 41 لاکھ یا 51 لاکھ مسیحو پر کی ہے۔ اسکے ثمرات ان کی اجتماعی زندگیوں میں نظر نہیں آتے۔۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔۔۔ جس پر بہت یکسوئی سے سائنسی و جنگی بنیادوں پر غور فکر کی ضرورت ہے۔۔ کیا سمت غلط تھی۔
اور ہمارے لوگ جانے بوجھے بغیر 51لاکھ مسیحو کی ترقی وبقاء کو یقینی بنانے کی آڑ میں 26 کروڑ کو بدلنے پر ہی وسائل لگاتے رہے۔۔جسکا نتجیہ یقینی صفر ہی ہونا تھا ۔ کہیں ایسا تو نہیں مسیحیوں ترقی بقاء کے نام معبدوں، ایوانوں اور سفارت خانوں میں انکی محرومیوں کا صرف بیوپار ہی ہوا ہے۔۔۔
نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔
