شہباز بھٹی شہید کے سیاسی جاننشینوں کے پندرہ سال اور مذہبی اقلیتیں

آنجہانی شہباز بھٹی شہید ، سابقہ سینٹرل ایگزیکٹو ممبر پاکستاں پیپلز پارٹی، چیئر مین آل پاکستاں مینارٹیز الائنس اور سابقہ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور کی پندرھویں برسی کے سلسلہ میں دو مارچ کی تقریبات کی تیاریوں کے حوالے سے اور رواداری تحریک کے روح رواں سماجی و سیاسی شخصیت محترم سیمسن سلامت صاحب اقلیتوں کے جداگانہ طرز انتخاب رائج کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کیمپ کے اہتمام کی خبریں زیر گردش ہیں
قارئین دو مارچ کو شہباز بھٹی شہید کی پندرھویں برسی ہے اقلیتوں کے لیےان کی سیاسی خدمات قابل قدر رہی ہیں انکی شہادت کو پندرہ سال ہوگئے ان کا کفن ابھی میلا نہ ہوا تھا کہ آل پاکستان مینارٹیز الائنس کا شیرازہ بکھر گیا اس کے دیرینہ ساتھیوں پر شک اور کم اعتمادی میں اس کے اپنوں سے لیکر اپما کا مرکزی ایگزیکٹو ممبرز تک کے اس کی تحریک اپما یونٹی کے دشمن بننے میں بہت دیر نہ لگی قوم کو کچھ تلخ حقائق سے آگاہی کی ابھی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے قارئین شہباز بھٹی کی وصیت آج تک منظر عام پر نہ آ سکی شاید وہ آپما کے لیے کوئی مستقل راہنمائی کا سوچ کر ضرور اس دنیا سے رخصتی سے قبل سوچ کر گئے ہوں اپنے والد محترم کی میموریل سروس میں انہوں نے کسی بھی جانی نقصان کے متوقع حادثہ کے خطرات کا اظہار بھی اپنے خطاب میں خوشپور میں انہوں نے کیا تھا لیکن انکی وصیت منظر عام پر جانے کیوں نہ آسکی ملک کی مذہبی اقلیتوں میں ان کی منشا کے مطابق حقیقی قیادت سامنے آ تی تو ہو سکتا ہے قوم اور اقلیتوں کے لیے یہ بہتر فیصلہ ہوتا یہ سوال ملک کی اقلیتوں کے لیے بڑا مایوس کن ہے کیونکہ شہباز بھٹی کی شہادت کے بعد انکے جاننشینوں کا پاوں پر کھڑا نہ رہنا سیاسی بیداری سے پیچھے ہٹنا ہے اور اس کے سیاسی سیٹ اپ کے باہمی خلفشار سے اقلیتیں اچھی سیاسی راہنمائی سے انکے بعد پندرہ سال سے ہی محروم ہو گئیں ہیں اقلیتیں صرف صوبہ پنجاب میں ہی27 ہزار اقلیتی کو آرڈینیٹررز اور تمام اضلاع میں گراس روٹ پر ایگزیکٹو باڈیز سمیت حیران کن تعداد مسلم لیگ نون میں 2023 انتخابات سے قبل شامل ہوئیں اسی طرح پی ٹی آئی میں بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اس سے قبل اقلیتوں کا بڑا ووٹ بنک پیپلز پارٹی کے پاس تھا میں سمجھتا ہوں شہباز بھٹی نے آپما کے پلیٹ فارم پہ مینار پاکستان منٹو پارک میں جب اقلیتوں کی بڑی تعداد کو اکٹھا کرکے جلسہ عام سابقہ صدر پاکستان پیپلز پارٹی جہانگیر بدر کے ہمراہ کیا تھا اور اقلیتوں میں کسی لیڈر کے ساتھ اس وقت مذہبی اقلیتوں کی بڑی تعداد کھڑی نظر آئی بعد میں کوئی اور اقلیتی لیڈر مذہبی اقلیتوں کی ایسی تعداد اپنے ساتھ نہیں دیکھا سکا جبکہ ان کی شہادت کے بعد شہباز بھٹی کے سیاسی جا ننشینوں کی یونٹی ختم ہو گئی کیونکہ شہباز بھٹی کی وصیت منظر عام پر نہ آنا غیور مذہبی اقلیتوں کے لیے ہمیشہ ایک بڑا سوال ہی رہے گا؟ کیونکہ انکی وراثت کا حق خانداں کے لیے تو فطری عمل تھا ہی جس میں انکی سیاسی جاننشینی بھی خانداں کے وراثتی حق کے تحت انکے خاندان کو سونپ دینے کا پیپلز پارٹی کا فیصلہ تھا
جب کہ شہباز بھٹی شہید کی سیاسی وراثت کے حوالے سے آصف علی زرداری صاحب سابقہ صدر پاکستان اور چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے آل پاکستاں مینارٹیز الائنس سے برائے راست ایک واحد میٹنگ بھی اس سلسلے میں نہ کی اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر پال بھٹی کو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا مشیر مقرر کردیا گیا کیونکہ شہباز بھٹی کی شہادت کے بعد انکی ایم این اے کی خالی نشست پر سلیکشن ان حالات میں آئینی و قانونی قدغن کے تحت ناممکن تھی انکی خاندانی مناپلی کو قائم رکھنے اور عوامی بھرم رکھنے کے فیصلے کے تحت آل پاکستان مینارٹیز الائنس کی مرکزی ایگزیکٹو ممبرز نے بھی خود ہی شہباز بھٹی شہید کے بڑے بھائی ڈاکٹر پال بھٹی کوجو اٹلی میں بطور ڈاکٹر طبعی خدمات کے تحت پریکٹس کر رہے تھے انکو چیرمئین آل پاکستاں مینارٹیز الائنس منتخب کر لیا یہ فیصلہ اپما کی تحریک اور اقلیتی عوام کی شعوری بیداری سے نکل کر آج پندرہ سال بعد اس کا راستہ ایک بند گلی میں پہنچ گیا ہے جس کا ناقابل تلافی نقصان پاکستانی اقلیتوں کا ہی ہوا ہے کیونکہ جس طرح پیرا شوٹروں کو قوم پر مسلط کرنے کے احمقانہ فیصلوں کا رواج اس ملک کی تاریخ میں ہے یہ بھی اس لحاذ سے کوئی نظریاتی و منطقی فیصلہ نہ تھا جس میں اناڑی اور ناتجربہ کار شخص کو سامنے لا کر قوم کا ناقابل تلافی نقصان کر دیا گیا آل پاکستان مینارٹیز الائنس کو شہباز بھٹی ہمیشہ ایک خاندان کا درجہ دیتے رہے تھے اسی لیے انکے مرکزی ممبر سینٹرل ایگزیکٹو آف آل پاکستان مینارٹیز الائنس سے ہی دیرینہ اور اس کی تحریک کے آغاز سے ہی سیاسی ہمسفر قریبی تحریکی ساتھی اور سابقہ ایم پی اے پنجاب جناب پرویز رفیق کے مطابق شہباز بھٹی آل پاکستان مینارٹیز الائینس کو اپنا خاندان سمجھتے تھے اس طرح انکی سیاسی وراثت کے حقیقی وارث آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے تحریکی ساتھی ہی تھےجبکہ ڈاکٹر پال بھٹی آل پاکستاں مینارٹیز الائنس کےممبر ہی نہ تھے اور وہ عوامی اور حکومتی پروٹوکول کے چکر میں پڑھ کر شہباز بھٹی کے نطریاتی ساتھیوں کی اخلاقی قدر کو پامال کر گئے یہ ویسے بھی نظریاتی ساتھیوں سے سب سے بہت بڑی زیادتی کا آغاز ہوا ڈاکٹر پال بھٹی کو آل پاکستاں مینارٹیز الائنس کا چیرمین سنٹرل ایگزیکٹو ممبرز نے ہی منتخب کر لیا اور اپنے ہی ہاتھوں سے دی ہوئی گانٹھیں اب سے بھی نہ کھلنے والی ہیں اور آج تک نہ کھلیں جس پر پرویز رفیق نے احتجاجا” آل پاکستان مینارٹیز الائنس کی قیادت اپنے تحریکی ساتھیوں سے لابننگ کر کے خود سنبھال لی لیکن اس حقیقی سیاسی جاننشینی کو آپما کے سینٹرل ایگزیکٹو ممبرز نے رد کر دیا اور حقیقی قیادت کا راستہ مل کر روکا اور پھر شہباز بھٹی کے سیاسی جانشینوں کی لڑائی اندر کی صفوں میں چھڑ گئی پرویز رفیق کا اقلیتی عوام نے بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا اور شہباز بھٹی کی پہلی برسی خوشپور میں منانے کی تیاری ہوئی جلسہ عام کی قیادت پرویز رفیق نے کی میزبان چوہدری عمانو ایل ڈوگرہ سابقہ ممبر ڈسٹرکٹ اسمبلی فیصل آباد اور دیگر ساتھی تھے جس میں پرویز رفیق کا خیر مقدم ملک کی اقلیتوں کی ہزاروں کی تعداد میں اقلیتی عوام نے کیا ڈاکٹر پال بھٹی مشیر وزیر اعظم کی تمام حکومتی مشنری اور طاقت بھی اس جلسے کو ناکام کرنے میں بے بس ہوگئی اور خوشپور میں شہباز بھٹی کی پہلی برسی پر آل پاکستان مینارٹیز الائنس اپنی اندرونی صفوں میں بڑے جلسے میں عوام کے روبرو میدان جنگ بن گیا آپما فاونڈرز کے جھنڈے اور پینا فیلیکس جلائے گئے گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی پرویز رفیق جلسہ گاہ تک میدان جنگ کو عبور کرتے ہوئے لڑتے اور بچتے بچاتے ہوئے جلسہ گاہ میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور شہباز بھٹی کی تحریک کو آل پاکستان مینارٹیز الائنس فاونڈرز کے نام سے پرویز رفیق نے شہباز بھٹی کی حقیقی تحریک کا آغاز کردیا ادھر ڈاکٹر پال شہباز بھٹی کے خاندانی وارث کی قیادت سمیت آل پاکستاں مینارٹیز الائینس کی مایوس کن کارکردگی سے آل پاکستان مینارٹیز الائنس کا ناقص کارکردگی کے تحت شیرازہ بکھرنے لگا اس کے مختلف حصے اور بخرے متعارف ہونے لگے پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے سے قبل خالد گل عامر جیوا طاہر نوید چوہدری، اکمل بھٹی ڈاکٹر پال شمعون گل ندیم بھٹی جاوید مائیکل سلیم خورشید جعفر جارج ڈاکٹر شمعون بھٹی اور دیگر شہباز بھٹی کے فالورز نے بھی الگ سے پیپلز پارٹی میں شہباز بھٹی کے نام سے پیپلز پارٹی میں جگہ بنانے کے لیے پریشر گروپ کے طور پر اپنا اپنا خود ساختہ مینارٹیز الائنس بنا کر لنگوٹا کس چکے تھے اور اپنے جعلی اثر و رسوخ پر پیپلز پارٹی میں اپنی اپنی جگہ بنانے میں لگ گئے تمام فرضی اور جعلی الائینسسز شہباز بھٹی کی تصویر کے سہارے چلانے کی جدوجہد میں اقلیتی حلقوں میں اپنی اپنی (ڈیڑھ انچ کی مسجد کے معقولے کے تحت) ایک دوسرے کے خلاف اقلیتی حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف چڑھائی کرنے میں مصروف رہے اور مذہبی اقلیتیں بھی ان حالات میں اپنی توانائی ضائع کرتی رہیں اور یہ سلسلہ پچھلے پندرہ سال سے آج تک جاری و ساری ہے شروع میں پرویز رفیق نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پنجاب کی صدارت کا آسرا لیا لیکن عامر جیوہ یوسف رضا گیلانی کی گود میں بیٹھ کر ایم این اے سلیکٹ ہوگئےاور پیپلز پارٹی میں اس نے اپنا اتنا اثر و رسوخ بنا لیا کہ وہ آج موجودہ حکومت میں بھی ایم این اے ہے پیپلز پارٹی نے دیگر نشستیں پچھلی دونوں حکومتوں میں دیگر اقلیتوں کو دیں اور ڈاکٹر پال کی گزشتہ2018 اور 2023 کی حکومتوں میں پیپلز پارٹی سے چھٹی ہوگئی اور شہباز بھٹی کے سیاسی اثر و رسوخ کا پیپلز پارٹی میں مکمل خاتمہ ہو گیا پیپلز پارٹی میں سینٹرل ایگزیکٹو ممبر شپ پر شہباز بھٹی براجمان رہے لیکن آل پاکستان مینارٹیز الائینس کے متنازعہ جاننشینوں کی باہمی جپقلش سے شہباز بھٹی کے قومی اور بین الااقوامی قائم کیے تشخص کو بہت بڑا دھجکا لگا جس کا سبب انکے تحریکی ساتھی ہی تھے اپما کی اندونی صفوں میں شہباز بھٹی کی تصویر کے پیچھے جب ڈالروں کی چمک اور جھنکار نے جگہ لے لی تو اپما کی قیادت اقلیتی حلقوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں لگ گئی اور کسی بھی قابل اور تجربہ کار تحریکی ساتھی کو آل پاکستاں مینارٹیز الائنس کے چیر مین کے عہدے پر سینٹرل ایگزیکٹو ممبران نے ہی ایک دوسرے کی پندرہ سال سے لیگ پولنگ کے ذریعے شہباز بھٹی کی باقیات کو ہی ایک دوسرے پر طعنہ زنی کے تحت نقصان پہنچایا اور بعد ازاں آج بہت سے دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ پچھلے پندرہ سالوں سے جاری ہے
شہباز بھٹی نے اگر اقلیتوں کے لیے کوئی بڑا کام کیا تو اس کے جاننشینوں نے ایک دوسرے کو قبول نہ کیا اور آپما کی مقبولیت کو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے جو ناقابل تلافی ہے جھوٹی اور پھیکی تقریریں اور باہمی تحریکی ساتھیوں کی اپنی اپنی جگہ جھوٹی انا نے ان کو نیشن بلڈنگ سوچ سے بہت دور کر دیا ہے اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہا تو
شہباز بھٹی کا خون رائیگاں ہونے کا احتمال ہے اور اس کے سیاسی جاننشین ہی پچھلے پندرہ سالوں سے قومی راہنمائی اور سیاسی بیداری میں رکاوٹ اور اس ناقابل تلافی نقصان کے ذمہ دار ہیں جس کا احساس انہیں خود بھی ہونا چاہیئے
الوگوں کو شہباز بھٹی کی برسی کی تقریبات میں اقلیتی عوام کو دعوت دینے کی بجائے اگر اپنے تمام سابقہ آپما اور تمام جملہ الائینسسز(یعنی بکھرا شیرازہ) جن کے وہ خود ساختہ راہنما ہیں وہ راہزنی سے بھی نکل آئیں گے اور قوم بھی خوش ہو جائے گی پندرہ سالوں کی راہزنی سے باہر نکلنے پر قوم جشن بھی منائے گی ایسی ایک تقریب کا اہتمام کرلیں قوم تو ایک قوم ہے اور شعور بھی رکھتی ہے اگر ایک قوم کا ایک لیڈر ہو تو کیسا لگے گا؟ اگر ایسا ہو تو جو بھی نظریاتی سیاست کے تابع مفادات سے حقوق اور مطالبے سو فی صد سب اچھا ہو جائے گا اور اقلیتوں کو وقت کی مشکلوں سے نکالنا جلد ممکن ہو سکے گا-

 

نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

By admin

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from دی وائیٹ پوسٹ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading