شناخت کا بحران یا فکری انتشار

 

تحریر: آصف امین

قوموں کی زندگی میں شناخت محض ایک رسمی علامت نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کے وجود کا جوہر اور ان کے اجتماعی شعور کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آج تک اس بنیادی سوال کا تسلی بخش جواب تلاش نہیں کر پائے کہ ہم کون ہیں، ہماری اصل پہچان کیا ہے، اور ہمیں اپنی تاریخ پر فخر کس بنیاد پر کرنا چاہیے؟

ہماری سرزمین وادیِ سندھ کی عظیم تہذیب کا امین ہے، جہاں پانچ ہزار سال پہلے علم، فن، تجارت اور تمدن کے چراغ روشن تھے۔ مگر ہمارے نصاب، ہماری گفتگو اور ہماری سوچ کا آغاز 712ء میں محمد بن قاسم کی آمد سے ہوتا ہے — گویا اس سے پہلے کا پورا عہد ایک بےنام سایہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہم نہ تو مکمل طور پر مقامی تہذیب کو قبول کر سکے ہیں اور نہ ہی غیرملکی اثرات کو دل سے اپنا سکے ہیں۔ یہی دو رنگی ہمیں فکری طور پر بے سمت اور جذباتی طور پر منتشر رکھے ہوئے ہے۔

یہی ابہام ہماری زبانوں میں بھی جھلکتا ہے۔ ہمارا قومی ترانہ فارسی زبان میں ہے، قومی زبان اردو ہے، جبکہ دفتری زبان انگریزی۔ ہم بیوروکریسی کے ایوانوں میں انگریزی میں لکھی گئی فائلوں پر اردو میں بحث کرتے ہیں اور پھر حکم نامہ دوبارہ انگریزی میں جاری ہوتا ہے۔ ہم عربی کو مذہب کی زبان کے طور پر لازمی سمجھتے ہیں، گھروں میں پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتو یا کوئی اور مادری زبان بولتے ہیں، اور بچے کو انگریزی سکھانے کو کامیابی کی کنجی گردانتے ہیں۔ یہ زبانوں کا نہیں، بلکہ ہماری ذہنی کیفیت کا بحران ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہم اب تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ ہماری اصل زبان کون سی ہے — وہ زبان جس میں ہم خواب دیکھتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

ثقافت کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ ہمارا قومی لباس شلوار قمیض ہے، مگر کسی سرکاری دفتر میں شلوار قمیض پہن کر جانے والے کو غیر سنجیدہ اور غیر پیشہ ورانہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سوٹ پہننے والا شخص “مہذب” قرار پاتا ہے۔ یہی منافقت ہماری تہذیبی شناخت کو مزید دھندلا دیتی ہے۔ ہم عملی زندگی میں شلوار قمیض کو حقارت سے دیکھتے ہیں مگر یومِ آزادی کے موقع پر یہی لباس فخر سے زیب تن کر کے فوٹو سیشن کرواتے ہیں — گویا ہماری ثقافتی شناخت بھی محض کسی تقریب کی زینت بن کر رہ گئی ہے، روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں رہی۔

کھیلوں کا میدان بھی اسی شناختی بحران کا شکار ہے۔ ہمارا قومی کھیل ہاکی ہے، مگر ہم کرکٹ کو اپنی روح کا حصہ بنا چکے ہیں۔ قومی جانور مارخور ہے، مگر 95 فیصد عوام نے اسے حقیقت میں کبھی نہیں دیکھا۔ قومی پرندہ چکور ہے، مگر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ گنے کا رس ہمارا قومی مشروب ہے، مگر فاسٹ فوڈ کلچر میں کولڈ ڈرنکس اور فینسی کافی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ تضادات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں وہ قومی علامتیں تھما دی گئی ہیں جن سے ہمارا کوئی جذباتی اور عملی رشتہ نہیں۔

یہ بحران محض علامتوں کا نہیں، بلکہ سوچ کا ہے۔ ہم آج تک قائداعظم کے ویژن اور علامہ اقبال کے خواب کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیا پاکستان ایک جدید اسلامی فلاحی ریاست ہے یا ایک روایتی جمہوری ملک؟ یہ سوال آج بھی ہماری سیاست اور معاشرت میں ایک ناسور کی طرح پل رہا ہے، اور ہر طبقہ اپنے اپنے بیانیے کو “اصل پاکستان” کا عکس قرار دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک منتشر ذہن قوم بن چکے ہیں، جو نظریات کے بیچ لٹک رہی ہے — نہ مکمل طور پر مذہبی، نہ مکمل طور پر جدید، اور نہ ہی اپنی تاریخ اور جغرافیہ کے ساتھ جڑی ہوئی۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کو کتابی معلومات کے خول سے نکال کر اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ہمیں تہذیبوں کے تصادم کے بجائے اپنی مقامی روایات، زبانوں اور ہیروز کو دل سے اپنانا ہوگا۔ ہماری زمین، ہمارے موسم، ہماری ثقافت اور ہماری تاریخ منفرد ہے — ہمیں ان پر فخر کرنا سیکھنا ہوگا۔

جب تک ہم یہ بنیادی سوال حل نہیں کریں گے کہ ہم ہیں کون، تب تک ہم ترقی کے کتنے ہی سنگِ میل عبور کر لیں، ہم اپنی پہچان کے سائے میں ہی کھوئے رہیں گے۔ ہمیں اپنے ماضی سے آنکھیں چرا کر نہیں، بلکہ اس کا سامنا کر کے اپنی حقیقی شناخت تلاش کرنی ہوگی — وہ شناخت جو زمین، زبان اور شعور کے رشتے سے جڑی ہو، نہ کہ صرف کتابوں اور تقریروں میں دفن ہو۔

پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں تو دنیا کے نقشے پر واضح ہیں، مگر وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی فکری سرحدوں کو بھی واضح کریں — ورنہ ہم ایک قوم نہیں، محض ایک ہجوم ہی رہیں گے۔

 

نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

By admin

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from دی وائیٹ پوسٹ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading