بچپن کا حق، ریاست کی ذمہ داری

 

 تحریر: وقاص قمر بھٹی

پنجاب چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026: ایک انسانی حقوقی اور قانونی تجزیہ
پنجاب میں چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 کا نفاذ انسانی حقوق کے تناظر میں ایک ایسا فیصلہ ہے جسے محض قانون سازی نہیں بلکہ ریاست کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری کی تکمیل قرار دیا جا سکتا ہے۔ کم عمری کی شادی طویل عرصے تک ایک سماجی روایت کے طور پر برداشت کی جاتی رہی، حالانکہ یہ عمل بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً بچوں کے حقوق، کی صریح خلاف ورزی رہا ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق بچہ وہ ہوتا ہے جو جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر نشوونما کے مرحلے میں ہو۔ اٹھارہ سال سے کم عمر فرد کو شادی جیسے مستقل اور پیچیدہ معاہدے میں باندھ دینا اس کی آزادی، وقار اور مستقبل کے حق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (CRC) میں بچوں کے تحفظ، تعلیم، صحت اور رضامندی کے حق کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ پنجاب کا یہ نیا قانون انہی اصولوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔
قانونی اعتبار سے کم عمری کی شادی ایک ایسا عمل ہے جس میں رضامندی کا تصور ہی مشکوک ہو جاتا ہے۔ ایک بچہ نہ تو شادی کے قانونی و سماجی نتائج کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی آزادانہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ اس آرڈیننس میں کم عمری کی شادی کو براہِ راست چائلڈ ابیوز کے زمرے میں شامل کرنا ایک غیر معمولی مگر نہایت ضروری قدم ہے، کیونکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ بچہ اگر خاموش ہے تو اس کا مطلب رضامندی نہیں، بلکہ بے بسی ہے۔
ہیومن رائٹس کے تناظر میں اس قانون کی ایک بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے ذمہ داری کا دائرہ صرف فرد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ریاست، والدین، سرپرستوں اور معاشرتی ڈھانچے سب کو جوابدہ بنایا ہے۔ والدین یا سرپرست اگر کم عمری کی شادی میں سہولت کار بنتے ہیں تو انہیں سزا کا مستحق قرار دینا اس سوچ کی نفی ہے کہ بچے والدین کی ملکیت ہوتے ہیں۔ جدید انسانی حقوقی فکر میں بچہ ایک خود مختار حق رکھنے والا فرد سمجھا جاتا ہے، اور یہ قانون اسی تصور کو مضبوط کرتا ہے۔
اسی طرح نکاح رجسٹرارز کو قانونی طور پر پابند بنانا اور ان کے لیے سزا مقرر کرنا ریاستی ذمہ داری کے اصول کو واضح کرتا ہے۔ اگر ریاستی نظام خود کمزور ہو تو انسانی حقوق محض نعرہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس آرڈیننس میں ادارہ جاتی جوابدہی شامل کر کے حکومتِ پنجاب نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ صرف اخلاقی وعظ سے نہیں بلکہ مؤثر قانونی ڈھانچے سے ممکن ہے۔
کم عمری کی شادی کے انسانی حقوقی نقصانات صرف فرد تک محدود نہیں ہوتے۔ یہ عمل تعلیم کے حق، صحت کے حق، اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کو بیک وقت متاثر کرتا ہے۔ کم عمر لڑکیاں اکثر تعلیم سے محروم ہو جاتی ہیں، ان کی صحت خطرے میں پڑ جاتی ہے، اور وہ تشدد یا جبر پر مبنی رشتوں میں پھنس جاتی ہیں۔ یہ سب عوامل معاشرے میں غربت، عدم مساوات اور صنفی ناانصافی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
نئے قانون کے نتیجے میں ممکنہ فوائد انسانی حقوق کے پیمانے پر نہایت واضح ہیں۔ تعلیم کا تسلسل، صحت مند ماؤں اور بچوں کی شرح میں اضافہ، اور صنفی برابری کی طرف پیش رفت وہ نتائج ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب ریاست واضح پیغام دیتی ہے کہ بچپن ناقابلِ سودا ہے، تو یہ صرف بچوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تاہم انسانی حقوق کے زاویے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ قانون کا اصل امتحان اس کا عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر نگرانی کمزور رہی، اگر پولیس اور عدلیہ نے سنجیدگی نہ دکھائی، یا اگر عوامی سطح پر آگاہی نہ پھیلائی گئی تو یہ قانون بھی ماضی کے کئی قوانین کی طرح غیر مؤثر ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ ریاست اس قانون کو محض سزا کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ اسے تحفظ، اصلاح اور آگاہی کے ایک جامع نظام کے طور پر نافذ کرے۔
آخرکار، پنجاب چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ آرڈیننس 2026 اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ بچوں کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ آئینی اور انسانی فریضہ ہے۔ یہ قانون اگر مؤثر انداز میں نافذ ہو گیا تو نہ صرف کم عمری
کی شادیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ پنجاب ایک ایسے معاشرے کی طرف قدم بڑھائے گا جہاں بچپن محفوظ، باوقار اور امید سے بھرپور ہوگا۔
نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

By admin

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from دی وائیٹ پوسٹ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading