تحریر: وقاص قمر بھٹی
پاکستان میں پولیس کا نظام ہمیشہ سے ریاست اور شہری کے تعلق کی علامت رہا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ علامت اکثر خوف، بداعتمادی اور تحقیر کی صورت میں سامنے آئی۔ اب پہلی مرتبہ پنجاب حکومت نے کھل کر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ “تھانہ کلچر” کو بدلنے جا رہی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ ایک ذہنی اور سماجی تبدیلی کی کوشش ہے، جس کا مقصد پولیس کو طاقت کے نشان سے نکال کر خدمت کے تصور سے جوڑنا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جو اقدامات سامنے آ رہے ہیں، ان میں پولیس اہلکاروں کے لیے باڈی کیمرے، تھانوں میں پینک بٹن کا قیام، اور شہریوں سے گفتگو کے انداز میں بنیادی تبدیلی شامل ہے۔ یہ سب اس بات کا اعتراف ہیں کہ ماضی کا نظام شہریوں کے وقار کے مطابق نہیں تھا۔ ریاست اب خود مان رہی ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والا ادارہ خوف کی علامت بن جائے تو قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔
ماضی میں عام شہری کے لیے تھانہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں قدم رکھتے ہوئے آواز خود بخود دھیمی ہو جاتی تھی۔ شکایت لے کر آنے والا شخص پہلے ہی مجرم سمجھا جاتا تھا۔ ایف آئی آر کا اندراج ایک احسان تصور کیا جاتا، اور “فریادی” جیسے الفاظ شہری کو حق مانگنے والے کے بجائے رحم کے طلبگار کے طور پر پیش کرتے تھے۔ تھانے میں استعمال ہونے والی زبان، رویہ اور ماحول یہ پیغام دیتا تھا کہ طاقت پولیس کے پاس ہے اور شہری کمزور فریق ہے۔
عوام کی شکایات صرف بدتمیزی تک محدود نہیں تھیں۔ غیر قانونی حراست، تشدد، رشوت، بااثر افراد کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے سختی، یہ سب وہ مسائل تھے جنہوں نے پولیس اور عوام کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ پولیس کے رویے پر مؤثر نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ اگر کسی شہری کے ساتھ زیادتی ہوتی تو شکایت بھی اسی نظام کے اندر جاتی جو خود ملزم ہوتا۔
اسی پس منظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا وہ تاریخی فیصلہ نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے پولیس کلچر کی نوآبادیاتی سوچ پر سخت سوالات اٹھائے۔ سپریم کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی شہری “فریادی” نہیں بلکہ ایک باوقار پاکستان میں پولیس کا نظام ہمیشہ سے ریاست اور شہری کے تعلق کی علامت رہا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ علامت اکثر خوف، بداعتمادی اور تحقیر کی صورت میں سامنے آئی۔ اب پہلی مرتبہ پنجاب حکومت نے کھل کر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ “تھانہ کلچر” کو بدلنے جا رہی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ ایک ذہنی اور سماجی تبدیلی کی کوشش ہے، جس کا مقصد پولیس کو طاقت کے نشان سے نکال کر خدمت کے تصور سے جوڑنا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جو اقدامات سامنے آ رہے ہیں، ان میں پولیس اہلکاروں کے لیے باڈی کیمرے، تھانوں میں پینک بٹن کا قیام، اور شہریوں سے گفتگو کے انداز میں بنیادی تبدیلی شامل ہے۔ یہ سب اس بات کا اعتراف ہیں کہ ماضی کا نظام شہریوں کے وقار کے مطابق نہیں تھا۔ ریاست اب خود مان رہی ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والا ادارہ خوف کی علامت بن جائے تو قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔
ماضی میں عام شہری کے لیے تھانہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں قدم رکھتے ہوئے آواز خود بخود دھیمی ہو جاتی تھی۔ شکایت لے کر آنے والا شخص پہلے ہی مجرم سمجھا جاتا تھا۔ ایف آئی آر کا اندراج ایک احسان تصور کیا جاتا، اور “فریادی” جیسے الفاظ شہری کو حق مانگنے والے کے بجائے رحم کے طلبگار کے طور پر پیش کرتے تھے۔ تھانے میں استعمال ہونے والی زبان، رویہ اور ماحول یہ پیغام دیتا تھا کہ طاقت پولیس کے پاس ہے اور شہری کمزور فریق ہے۔
عوام کی شکایات صرف بدتمیزی تک محدود نہیں تھیں۔ غیر قانونی حراست، تشدد، رشوت، بااثر افراد کے لیے نرمی اور کمزور کے لیے سختی، یہ سب وہ مسائل تھے جنہوں نے پولیس اور عوام کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ پولیس کے رویے پر مؤثر نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ اگر کسی شہری کے ساتھ زیادتی ہوتی تو شکایت بھی اسی نظام کے اندر جاتی جو خود ملزم ہوتا۔
اسی پس منظر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا وہ تاریخی فیصلہ نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے پولیس کلچر کی نوآبادیاتی سوچ پر سخت سوالات اٹھائے۔ سپریم کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ کوئی شہری “فریادی” نہیں بلکہ ایک باوقار شہری ہے جو اپنا آئینی حق استعمال کر رہا ہے۔ عدالت نے پولیس ریکارڈ اور درخواستوں میں غلامانہ زبان کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے “بخدمت جناب ایس ایچ او” جیسے الفاظ پر پابندی عائد کی اور واضح کیا کہ پولیس افسر عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں۔
یہ عدالتی مؤقف دراصل اسی اصلاحی سوچ کی بنیاد ہے جسے اب پنجاب حکومت عملی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہری کو “جناب” اور “صاحب” کہہ کر مخاطب کرنے کی ہدایت صرف زبان کی اصلاح نہیں بلکہ ذہن کی اصلاح ہے۔ جب ریاست کا نمائندہ شہری کو عزت دے گا تو شہری بھی قانون کو اپنا محافظ سمجھے گا، دشمن نہیں۔
باڈی کیمرے لگانے کا فیصلہ پولیس نظام میں شفافیت کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اب نہ صرف شہری کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ایماندار پولیس افسر بھی بے بنیاد الزامات سے بچ سکیں گے۔ ہر کارروائی ریکارڈ پر ہوگی، جس سے طاقت کے غلط استعمال کے امکانات کم ہوں گے۔ اسی طرح تھانوں میں پینک بٹن کا قیام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ماضی میں احتساب کا نظام ناکام رہا، اور اب براہِ راست نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔
اگر یہ اصلاحات نیت، تسلسل اور نگرانی کے ساتھ نافذ ہو گئیں تو ان کے فوائد دور رس ہوں گے۔ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوگا، جرائم کی رپورٹنگ بڑھے گی، تفتیش کا معیار بہتر ہوگا اور قانون کی عملداری مضبوط ہوگی۔ سب سے بڑھ کر، پولیس اور شہری کے درمیان تعلق خوف سے نکل کر اعتماد میں بدل سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف اعلانات اور نوٹیفکیشن کافی نہیں ہوتے۔ اس لیے چند سنجیدہ تجاویز ناگزیر ہیں۔
اول، باڈی کیمروں کے ڈیٹا کو آزاد اور غیر جانبدار ادارے کے زیرِ نگرانی رکھا جائے۔
دوم، پولیس اہلکاروں کی باقاعدہ اخلاقی اور انسانی حقوق پر تربیت کو لازمی بنایا جائے۔
سوم، پینک بٹن کی شکایت پر کارروائی کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔
چہارم، شہریوں کو بھی ان اصلاحات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تھانہ کلچر کی اصلاح کی کوشش اور سپریم کورٹ کا واضح مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب خود کو درست کرنے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ اگر یہ سفر رکا نہیں، تو وہ دن دور نہیں جب تھانہ خوف کی نہیں بلکہ انصاف کی علامت بن جائے گا — اور یہی کسی مہذب ریاست کی اصل پہچان ہے۔ کر رہا ہے۔ عدالت نے پولیس ریکارڈ اور درخواستوں میں غلامانہ زبان کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے “بخدمت جناب ایس ایچ او” جیسے الفاظ پر پابندی عائد کی اور واضح کیا کہ پولیس افسر عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں۔
یہ عدالتی مؤقف دراصل اسی اصلاحی سوچ کی بنیاد ہے جسے اب پنجاب حکومت عملی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہری کو “جناب” اور “صاحب” کہہ کر مخاطب کرنے کی ہدایت صرف زبان کی اصلاح نہیں بلکہ ذہن کی اصلاح ہے۔ جب ریاست کا نمائندہ شہری کو عزت دے گا تو شہری بھی قانون کو اپنا محافظ سمجھے گا، دشمن نہیں۔
باڈی کیمرے لگانے کا فیصلہ پولیس نظام میں شفافیت کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اب نہ صرف شہری کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ایماندار پولیس افسر بھی بے بنیاد الزامات سے بچ سکیں گے۔ ہر کارروائی ریکارڈ پر ہوگی، جس سے طاقت کے غلط استعمال کے امکانات کم ہوں گے۔ اسی طرح تھانوں میں پینک بٹن کا قیام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ماضی میں احتساب کا نظام ناکام رہا، اور اب براہِ راست نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔
اگر یہ اصلاحات نیت، تسلسل اور نگرانی کے ساتھ نافذ ہو گئیں تو ان کے فوائد دور رس ہوں گے۔ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوگا، جرائم کی رپورٹنگ بڑھے گی، تفتیش کا معیار بہتر ہوگا اور قانون کی عملداری مضبوط ہوگی۔ سب سے بڑھ کر، پولیس اور شہری کے درمیان تعلق خوف سے نکل کر اعتماد میں بدل سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف اعلانات اور نوٹیفکیشن کافی نہیں ہوتے۔ اس لیے چند سنجیدہ تجاویز ناگزیر ہیں۔
اول، باڈی کیمروں کے ڈیٹا کو آزاد اور غیر جانبدار ادارے کے زیرِ نگرانی رکھا جائے۔
دوم، پولیس اہلکاروں کی باقاعدہ اخلاقی اور انسانی حقوق پر تربیت کو لازمی بنایا جائے۔
سوم، پینک بٹن کی شکایت پر کارروائی کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔
چہارم، شہریوں کو بھی ان اصلاحات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تھانہ کلچر کی اصلاح کی کوشش اور سپریم کورٹ کا واضح مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب خود کو درست کرنے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ اگر یہ سفر رکا نہیں، تو وہ دن دور نہیں جب تھانہ خوف کی نہیں بلکہ انصاف کی علامت بن جائے گا اور یہی کسی مہذب ریاست کی اصل پہچان ہے۔
نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔
