پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی سیاسی حالت ابتری کا شکار ہے مذہبی اقلیتوں کو سیاسی طور پر تقسیم در تقسیم کے عمل سے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے جنرل مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی جمہوری اور عوامی مینڈیٹ سے بھر پور حکومت کا تختہ الٹنے کے نتیجے میں جمہوریت کو جو نقصان پہنچایا اس نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا 1997 سے 2006 تک عوام نے آمریت کا سامنا کیا حتی’ کہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی مذہبی اقلیتوں پر آئین میں دانستہ طور پر جمہوری قدغن لگا دی اور آئین کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ جب ملک میں شب خون مارا تو ہر پاکستانی شہری کےبرابر کے حقوق کو جبرا” چھین لیا اور خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کو ملک میں ان کے جمہوری حقوق سے محروم کرنے اور ان کی نسلوں کے ساتھ زیادتی کے آج 27 سال گزر چکے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں میثاق جمہوریت کے فیصلوں کے تحت ابھی تک عمل در آمد کرنے اور کرانے سے منحرف ہیں مشرف آمرانہ باقیات میں سے غیر جمہوری غیر آئینی غیر سیاسی اصلاحات اور غیر آئینی قانون سازی کے خاتمے کے فیصلوں سے اب تک سیاسی پارٹیاں جو بار بار منحرف ہو رہی ہیں انہیں اخلاقی سماجی سیاسی اقتصادی اور جغرافیائی مسائل کا ادراک ہونے کے باوجود دانستہ طور پر زیبا نہیں کہ وہ ڈکٹیٹر شپ سے ہارے ہوئے قافلے کے میثاق جمہوریت 2006 لندن کی روح سے اقلیتوں کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو عملی طور پر پچھلے 27 سال گزرنے کے بعد بھی سہارا نہ دیں پاکستانی مذہبی اقلیتیں بہت کچھ کھو چکی ہیں اسے میں اگر لکھوں یا قلم بند کروں تو آپکے سات طبق روشن ہو جائیں گے لیکن قارئین المختصر آپ نے جے سالک سابقہ وفاقی منسٹر پیٹر جان سہوترہ سابقہ وفاقی منسٹر طارق سی قیصر مشتاق وکٹر سائمن گل جارج کلیمینٹ ایم این ایز اور سابقہ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر پال بھٹی مشیر وزیر اعظم پاکستان جانسن مائیکل سابقہ مشیر وزیر اعلی پنجاب جاوید مائیکل ایم پی اے سلیم کھوکھر ایم پی اے نجمی سلیم ایم پی اے جاوید پرنس ایم پی اے میڈم آسیہ ناصر ایم این اے پرویز رفیق ایم پی اے اکرم گل سابقہ وفاقی وزیر اور انجینئر شہزاد ایم پی اے جیسی قیادت کو برباد اور دربدر ہوتے کیوں نہ دیکھا وہ آپکے ورکرز تھے برا وقت تو کسی پر بھی آسکتا ہے آپ نے چغلخوروں چاہ پلوسوں کو اہمیت دے کر جمہوری روایات کی نفی کر کے حقیقی ورکرز کا دل توڑا اور انہیں مایوس کیا ہے
صرف ایک جے سالک پیپلز پارٹی کا 80ہزار ووٹ لیکر آپ کے چرنوں میں بطور ایم این اے بیٹھ جاتا تھا آپ نے انکی قیادت کی قدر نہ کی آپ نے شہباز بھٹی کے ایک اشارے سے مسیحی قوم کا مینڈیٹ رکھنے والے جے سالک کی توہین کی اور اس نے آمریت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اقلیتوں کا مقدمہ سپریم کورٹ میں لڑا جس کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت عظمی’ نے آئین سے متصادم لاقانونیت پر اقلیتوں کے لیے ووٹ کے ذریعے انکے نمائندے منتجب کرنے پر ڈائریکشن جاری کی اور قومی اسمبلی کی کورٹ میں بال پھینکی گئی وہاں آپ نے مذہبی اقلیتوں کے مطالبے اور حق کو تسلیم نہ کیا اور اس ڈائریکشن کو آپ نے آج تک نظر انداز کر دیا ہے آپ اس پر قانون سازی کیوں نہیں کرتے 27 سال سے اقلیتیں ذلیل ہو رہی ہیں جے سالک آج بھی آپ کی خیریتی سیٹ پر ایم این نہیں بننا چاہتا اور جمہوریت کا حامی اور اصول پرست انسان ہے وہ لوٹا نہیں مسیحیوں کا حقیقی ہیرو ہے جارج کلیمینٹ ایم این اے نے آپکی پارٹی چھوڑ دی کیونکہ آپ اقلیتوں کی قدغن زدہ جمہوریت سے اقلیتوں کو محتاج لاوارث اور انکے قومی تشخص کے دشمن ہونے کی بو آپکی سوچوں اور خیالوں سے انکو آئی ہوگی جسے انہوں نے محسوس کیا ہوگا
اور ایسی صورت حال مذہبی اقلیتوں کی جان لینے کا سبب بن چکی ہے ابھی تو جنرل ضیا کے ٹارچر کو نہیں بھولے تھے کہ جنرل مشرف کا اقلیتوں پر تشدد آج خون کے آنسو رولا رہا ہے اور یہ سب ہتھکنڈے مذہبی اقلیتوں کی نسل کشی کا منصوبہ ہے اس کے نتیجے میں وہ بستیاں جلائیں یا جبرا”تبدیلی مذہب کریں یا مذہبی دہشت گردی کے تحت اقلیتوں کو ذہنی اور جسمانی تشدد اور ٹارچر کریں انکے سب گناہ معاف ہوتے ہیں جبکہ اقلیتیں ریاست میں انکے سامنے مذہبی تعصب کے تحت غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے بہت زیادہ مایوس ہو چکی ہیں ادھر سیاسی پارٹیاں شہنشاہ نیرو کی طرح خوشی سے بانسری بجا رہی ہیں اور مشرف کی قدغن زدہ جمہوریت کو مذہبی اقلیتوں پر سے نہیں اٹھا رہیں کہ وہ ایوان اقتدار کے لیے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کریں نالائق ان پڑھ نا اہل شرابی چرچ پراپرٹیز کے سودے کرنے والے کمشن ایجنٹس اقلیتی نمائیندگان ہمارے پلے پڑھ گئے ہیں جن کی منفی سر گرمیاں اقلیتی نمائیندگی سے ہی انکی اندر کی صفوں سے ہمیں مطلع کر رہی ہیں اپوزیشن تو دور کی بات حکومتی ایوان پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی انکی ناقص کارکردگی کا بھانڈہ پھوڑ چکے ہیں چھج چاننی کی طعنہ زنی اور خواتین جیسی طعنہ زنی کی انکی اندر کی صفوں میں لڑائی ناقابل برداشت ہے ایک سیاسی این جی او کی خاتون اور سابقہ ایم پی اے میری گل نے سکھ کمیونٹی کے لیےکہا کہ “قیام پاکستان میں سکھوں کو جائیدادیں چھوڑ کر یہاں سے جانا پڑا یہ مشکل اور پریشانی کا عمل تھا” لیکن انکی اطلاع کے لیے وہ خالصہ تحریک کے ساتھ تھے اور اب بھی ہیں انہوں نے سکھ قیادت ماسٹر تارا سنگھ کو فالو کیا تھا اسی لیے وہ اپنے پیشوا گرو نانک صاحب کے شہر سے بھی دور چلے گئے اگر قیام پاکستان میں سکھ کمیونٹی پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کرتی تو انکی سیاسی حالت انڈیا سے یہاں بہتر ہوتی آج مسلم لیگ کی مہربانیوں اور سیاسی اثرو رسوخ اور سفارش پر وہ چند گنتی کے ووٹوں کے مالک بھی صوبائی وزیر کے عہدے پر ہیں اور ملک کی بڑی مسیحی اقلیت سے منسٹر بھی آج نہ بن سکاجس کا ردعمل مذہبی اقلیتوں میں بار بار لاکھوں کی آبادی کے ہوتے ہوئے بھی انکو منسٹر کے عہدے کے مستحق نہیں سمجھا جا رہا
سیاسی پارٹیاں کیا چاہتی ہیں؟ اقلیتیں ذلیل ہی ہوتی رہیں؟ یہ فیصلہ میثاق جمہوریت کے منافی ہے کہ اقلیتوں کے نمائندے غیر جمہوری طریقے سے سفارشی طریقے سے ایوانوں میں جائیں اس کا کون ذمہ دار ہے؟ سیاسی پارٹیاں آنکھیں اور کان کھول کر سن لیں مذہبی اقلیتوں کی سیاسی تقسیم و تفریق کے سبب آپکی جمہوریت کے لیے سوچ سے ہم باخبر ہیں کیا قائد اعظم نے مذہبی اقلیتوں کے لیے آپکو ایسا حکم دیا تھا؟ آپ مسلم لیگ کے قائد اعظم کے جانشین ہیں آپ نے میثاق جمہوریت کے معاہدے کے باوجود بھی اقلیتوں سے منصفی میں ڈنڈی مار رہے ہیں ہمارا کیا قصور ہے؟ آپ ہمیں جمہوری طریقے سے ہمارے نمائندے ہمیں لانے دیں اور ہماری مجموعی آبادی باہم انتظامی طور پر تقسیم کرکے ہمارے مختلف حلقے بنا کر بیلٹ کے ذریعے ہمارے انتخابات کروانے کی قرارداد لائیں اور بل لائیں اور آئین میں ترمیم کریں ہم آپ کا خیر مقدم کریں گے آپ نے اپنے لیے تو اپنی ساری مشرف باقیات کا خاتمہ کر دیا اقلیتوں کو آپ نے کیوں نظر انداز کیا ہے؟ آپکو اقلیتوں کے آنسو پونچنا ہونگے ان کے نمائیندے انہیں خود جمہوری طریقے سے منتخب کرنے کے لیے آئینی ترمیم کرنا ہوگی یا متوقع 28 ویں ترمیم کے ڈرافٹ کا حصہ بنانا ہوگا جب سیاسی پارٹیوں پر مشکل تھی تو واقعات اور حالات یوں بتاتے ہیں جس میں بی بی سی اردو کے مطابق
“میثاق جمہوریت میں پرویز مشرف دور کی ترامیم ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا”
“مئی 2006 میں جب ملک کی سب سے بڑی حریف سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے لندن میں ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے ’میثاق جمہوریت‘ نامی ایک نئے معاہدے پر دستخط کا اعلان کیا تو اس حیرت انگیز پیش رفت نے امید پیدا کر دی کہ ملکی سیاست شائستگی، باہمی برداشت اور جمہوریت کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گی۔
یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اس سے قبل دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے دو ادوار حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف سخت اقدامات کیے تھے اور تلخیوں کی ایک پوری تاریخ کو بھلا کر آگے بڑھنے کا عزم کیا جا رہا تھا”
” سیاسی ماہرین کے مطابق میثاق جمہوریت گو کہ اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر سکا تاہم اس نے پاکستان کی سیاست پر دورس اثرات مرتب کیے ہیں جن میں اٹھارویں آئینی ترمیم سمیت اہم فیصلے شامل ہیں۔
میثاق جمہوریت میں کیا طے پایا تھا؟”
” 14 مئی 2006 کو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی جانب سے لندن میں پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک کی رہائش گاہ پر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے گئے جس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں جماعتوں کے چیدہ چیدہ رہنما بھی شریک ہوئے۔
چارٹر آف ڈیموکریسی یا میثاق جمہوریت میں اس وقت کی مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی آئینی ترامیم، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں دونوں جماعتوں کے اتفاق رائے سے نکات شامل کیے گئے۔معاہدے میں 1973 کے آئین کو دس اکتوبر 1999 کی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور پرویز مشرف کی طرف سے کی گئی زیادہ تر ترامیم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں نہ تو شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گی-میثاق جمہوریت کیا پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں معاہدہ فوج کو مستقل غیر جانبدار رکھ سکتا ہے؟( مصنف,ریاض سہیل عہدہ,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی وقت اشاعت 14 مئ 2022)
اس وقت پاکستان میں برسرِ اقتدار دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے جو معاہدہ 14 مئی 2006 میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے۔اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ “سیاست اور اقتدار میں فوجی مداخلت نہیں ہو گی۔ تو سوال یہ ہے کیا دونوں جماعتیں اب اس کو عملی شکل دیں گی اور فوج کی غیر جانبداری مستقل رہے گی؟ یاد رہے کہ اپریل میں پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے وقت پاکستانی فوج کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ اس سیاسی تبدیلی میں غیر جانبدار ہیں۔ میثاق جمہوریت کیا تھا؟پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف ایک طویل سیاسی رقابت کے بعد 15 مئی سنہ 2006 کو ایک صفحے پر اکٹھے ہوئے تھے، جس کو میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا۔اس وقت پاکستان میں میاں نواز شریف کی حکومت کی معطلی اور جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو تقریبا سات سال گزر چکے تھے۔ماضی کی حریف جماعتیں پہلے مرحلے میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں قریب آئیں جس کے بعد انھوں نے اس میثاق پر دستخط کیے۔ان دنوں جنرل پرویز مشرف نے بعض ایسی آئینی ترامیم متعارف کرائیں جس سے وزیراعظم کے اختیارات محدود ہوئے اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو سیاست سے باہر رکھا گیا جس میں تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی بھی شامل تھی۔ میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے والے مسلم لیگ نون کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا کہتے ہیں کہ یہ دو جماعتیں نہیں بلکہ 17 جماعتیں تھیں۔ اس وقت اے آر ڈی موجود تھی اور ان جماعتوں کی موجودگی میں یہ سب کچھ ہوا تھا اور لندن میں ایک کل جماعتی کانفرنس ہوئی تھی جس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوئے تھے”
قارئین ایوانوں کے اندر کے اقلیتی ارکان اسمبلی آئین پاکستان کے 12 اکتوبر1997 کے دن سے آئین کی بحالی کے فیصلے کے مطابق آج بھی ڈکٹیٹر کی باقیات ہیں ہم انہیں کیسے جمہوری مانے یہ تو خیراتی سیٹوں کے زمرے میں آتے ہیں ہم ان کو کیسے سیاسی لیڈر مانے کیونکہ انکی طاقت نہ عوام میں ہے نہ سیاسی ایوانوں میں اس لیے سیاسی پارٹیوں کو اپنا کام نکال کر اقلیتوں کے فیصلے کو لٹکانے کا انکو کوئی حق نہیں قائد اعظم نے تمام شہریوں کے حقوق کو برابر کی سطح پر دئے ہیں آپ اس کی نفی کے مرتکب کیوں ہو رہے ہیں؟ میاں محمد نواز شریف آصف علی زرداری تمام جماعتوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر میثاق جمہوریت کے تمام فیصلوں کو پڑھ کر مکمل جمہوریت کے سانچھے میں اقلیتوں کو ڈال کر انہیں ووٹ کے ذریعے اپنے نمائیندوں کا انتخاب کرنے کا حق دیں تاکہ اقلیتوں کو غیر یقینی صورت حال سے نکال کر آپ اپنے میثاق جمہوریت کے معاہدے کی پاسداری کے تحت اقلیتوں کو ان کا حق دیں-
بقول شاعر
میرا یہ دکھ میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں ہوں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔
