جان لیوا مگر قانونی

 

 تحریر: وقاص قمر بھٹی

چند روز قبل سگریٹ کے ایک پیکٹ کو غور سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پیکٹ پر ایک خوفناک تصویر بنی ہوئی تھی۔ ساتھ لکھا تھا کہ تمباکو کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے ذہن میں عجیب سا سوال پیدا ہوا۔ اگر یہ چیز واقعی کینسر کا سبب بنتی ہے، اگر یہ جان لیوا ہے، اگر اس سے انسان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے تو پھر یہ مارکیٹ میں کیوں موجود ہے؟
یہ سوال صرف میرا نہیں، لاکھوں پاکستانیوں کا سوال ہے۔
ریاست کہتی ہے سگریٹ نقصان دہ ہے۔ ریاست کہتی ہے نسوار نقصان دہ ہے۔
ریاست کہتی ہے تمباکو دل، پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بنتا ہے۔
پھر ریاست ہی ان فیکٹریوں کو لائسنس بھی دیتی ہے، ان سے ٹیکس بھی وصول کرتی ہے اور ان کی مصنوعات کو قانونی تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔ آخر کیوں؟
یہاں سوال کسی حکومت، کسی وزیر یا کسی ادارے پر تنقید کا نہیں بلکہ ایک پالیسی کو سمجھنے کا ہے۔
اگر کل کوئی شخص زہر بیچنے لگے تو قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ اگر کوئی جعلی دوا بیچ دے تو مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی مضر صحت خوراک فروخت کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ لیکن ایک ایسی چیز جو ہر سال ہزاروں جانوں کو بیماریوں اور موت کی طرف دھکیلتی ہے، وہ باقاعدہ قانونی نظام کے تحت تیار بھی ہو رہی ہے اور فروخت بھی۔ کیا اس کی وجہ ٹیکس ہے؟
کیا اس کی وجہ روزگار ہے؟
کیا اس کی وجہ یہ خوف ہے کہ پابندی لگانے سے اسمگلنگ بڑھ جائے گی؟ اگر یہ تمام وجوہات درست ہیں تو پھر عوام کو بھی حق ہے کہ انہیں مکمل سچ بتایا جائے۔ ریاست صرف یہ نہ بتائے کہ سگریٹ نقصان دہ ہے بلکہ یہ بھی بتائے کہ اس کے باوجود اس کی تیاری کیوں جاری ہے۔
جمہوریت میں سوال پوچھنا جرم نہیں ہوتا۔ سوال دراصل پالیسیوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
شاید حکومت کے پاس اس کا معقول جواب موجود ہو۔ شاید معاشی اور انتظامی مجبوریوں نے اسے مکمل پابندی کے بجائے ریگولیشن کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا ہو۔ لیکن اگر ایسا ہے تو پھر اس بارے میں کھل کر بات ہونی چاہیے۔ کیونکہ جب ایک نوجوان ایک طرف سگریٹ کے پیکٹ پر موت کی تصویر دیکھتا ہے اور دوسری طرف اسی سگریٹ کو قانونی طور پر دکان پر فروخت ہوتے دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں الجھن پیدا ہونا فطری بات ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پالیسی اور پیغام میں یکسانیت ہو۔ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ایک وسیع قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔ پارلیمنٹ، وزارت صحت، ماہرین معیشت، سول سوسائٹی اور عوام ایک میز پر بیٹھ کر یہ فیصلہ کریں کہ ہم آنے والی نسلوں کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔
سوال سگریٹ کا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ایک چیز کو جان لیوا قرار دیا جا چکا ہو تو اس کے مستقبل کے بارے میں ریاست کا حتمی مؤقف کیا ہے؟
اور جب تک اس سوال کا واضح جواب سامنے نہیں آتا، تب تک ہر تمباکو کے پیکٹ پر لکھی وارننگ کے ساتھ ایک سوال بھی زندہ رہے گا:.”اگر یہ صحت کے لیے اتنا خطرناک ہے تو پھر یہ قانونی کیوں ہے؟”

 

نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

By admin

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from دی وائیٹ پوسٹ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading