کیا کیا ہمیں یاد آیا۔۔۔

 

تحریر: فراز ملک

ایک بہت ہی مشہور فلمی گانا جسے میڈم نور جہاں نے گایا اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے لکھا۔
سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی۔ اس گانے میں ایک مصرعہ ہے” کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تری آئی”
بس مجھے بھی کیا کیا یاد آ گیا جب میرے دوست منظور رفیق نے ایک قصہ چھیڑ دیا۔ واقع کچھ یوں ہے کہ سردیوں کی شام گھنگھور گھٹاؤں نے اسے اسے کاجل سے زیادہ سیاہ بنا دیا۔ میری بیٹی نے آواز دی پاپا کھانا کھا لیجیے۔ مجھے بھی بھوک کچھ زیادہ ہی لگ رہی تھی میں نے کتاب کو بند کیا اور کھانے کی میز کی جانب بڑھا۔ جب میں کتاب پڑھ رہا تھا تو کھانے خوشبو میری بھوک بیتاب کر رہی تھی شاید اسی لیے مجھے کچھ زیادہ ہی بھوک لگ رہی تھی۔ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھ کر میں بے چینی سے اپنی پلیٹ میں سالن ڈالا، روٹی لی اور بنا کسی سے آنکھ ملائے کھانا شروع کر دیا۔ واہ کیا مزے کا کھانا تھا۔ میں یہ بھی بھول گیا کہ میری بیگم تعریف کا حق رکھتی ہے، بہر حال سب خاموشی سے کھانا کھاتے رہے، میرا آخری نوالہ تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ میری بیٹی فون پکڑ کر میرے پاس لائی اور بولی کہ انکل منظور رفیق کا فون ہے۔ منظور رفیق میرا چالیس سال پرانا دوست ہے، نہایت شریف، اعلیٰ ظرف اور نفیس انسان ہے۔ میں نے فون کا بٹن دبایا اور ہیلو کہا آواز آئی کہاں ہو۔ میں نے کہا گھر پر ہوں کھانا کھا رہا تھا۔ حکم ہوا کہ کھانا کھا لیا ہے تو میرے گھر آو۔ اس کی آواز سے پریشانی اور گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے کہا خیر تو ہے تم کچھ گھبرائے ہوے لگ رہے ہو۔ اس نے کہا تم آتے ہو تو بتاؤں گا۔ میری عادت ہے کہ میں کھانے کے بعد چاے پیتا ہوں۔ میں اپنے دوست سے عرض کی کہ چاے پی کر آتا ہوں اس نے کہا نہیں چاے میرے ہاں پی لینا۔ میری بیٹی نے بتایا کہ باہر بارش شروع ہو گئی ہے، میں نے پھر کہا یار بارش شروع ہو گئی ہے کوئی ضروری بات ہے تو فون پر ہی بتا دو۔ اس نے کہا تم آو گے تو بتاؤں گا اور تم نے کونسا پیدل آنا ہے، گاڑی نکالو اور فورآ میرے پاس پہنچوں۔ میں سمجھ گیا کہ میرا دوست کسی مشکل میں ہے۔ میں نے فورآ گاڑی نکالی اور اس کے گھر پہنچ گیا۔ ابھی جا کر بیٹھا ہی تھا کہ بھابھی چاے لے آئی، میں نے چاے کا گھونٹ بھرا اور پوچھا کہو کیا بات ہے مجھے کیوں بلایا ہے؟ اس نے کہا یار میں بہت پریشانی میں ہوں میرے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے۔ میں نے کسی کا پانچ لاکھ دینا تھا میں وہ ادا کر چکا ہوں لیکن میں نے اعتبار کیا اور پیسوں کی وصولی کی رسید نہیں لی۔ بے شک وہ مسلم تھا لیکن میرا دوست تھا اور ہم ایک دوسرے پر یقین کی حد تک اعتبار کرتے تھے۔ دلی افسوس ہے کہ دو سال پہلے میرے دوست کا انتقال ہو گیا اور اب دو سال بعد اس کے بیٹے نے اپنے والد کے کاغذات تو اسے 5 لاکھ کی رسید مل گئی لیکن اسے رقم واپس کرنے کی رسید نہیں ملی اور اس نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ تم نے میرے باپ کے پیسے ابھی تک ادا نہیں کیے۔ میں بھی تھوڑا پریشان ہوا اور کہا مجھے ایف آئی آر دیکھاؤ، اس نے یک لخت مجھے ایف آئی آر دیکھائی میں نے پڑھی اور کہا کہ میرے بھائی تمہارا نام تو منظور رفیق ہے اور آیف آئی آر تو منظور مسیح کے خلاف ہے۔ اس نے کہا میری ولدیت رفیق مسیح بھی لکھی ہوئی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میرا پورا نام منظور رفیق قصدآ نہیں لکھا گیا بلکہ اسے منظور مسیح لکھ دیا ہے۔ یاد رکھو کہ جب بھی جرائم کی بات ہو گی تو محکمہ پولیس اور دیگر کئی محکمے مذہبی شناخت ظاہر کرنے کے لیے مسیحیوں کے نام کے آگے مسیح کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ اور خصوصاً جب مسلم اور مسیحی کا تنازعہ ہو تو پولیس والے مسیحی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے مذہبی شناخت یعنی ” مسیح” کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ در پردہ مدعا یہ ہوتا ہے کہ یہ مجرم ہے اور اس سے بھی بڑا جرم یہ ہے کہ یہ مسیحی ہے۔ اس کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت نا برتی جاے۔ بس اسے مسیحی جان کر اسے مجرم ثابت کیا جاے اور اسے کڑی سے کڑی سزا دی جاے۔ ایک پنتھ دو کاج ہو جائیں گے اسے مسیحی ہونے کی سزا بھی مل جاے گی اور مسیحیت بھی رج کر بدنام ہوگی۔ میں خاموش رہا اور غور کرنے لگا لیکن اس کی اگلی دلیل نے میرے سارے غور و فکر کو یقین میں بدل دیا۔ اس نے کہا مرد تو مرد پولیس والے تو عورتوں کے نام کے آگے بھی ” مسیح” کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ کیا تم نے کسی مسلم مجرم عورت کے آگے ” محمد” کا اضافہ دیکھا ہے؟ مثلا کبھی دیکھا ہے کہ عائشہ محمد لکھا ہو، کلثوم محمد لکھا ہو؟ نہیں اگر مسلم خاتون مجرم ہو تو اس کے آگے اس کی ولدیت یاں زوجیت لکھی جاتی ہے لیکن اگر کوئی مسیحی عورت ملزم یاں مجرم ہو تو اس کے نام کے آگے ولدیت یاں زوجیت نہیں لکھی جاتی۔ وہ عورت کے نام کے آگے بھی ” مسیح” کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً رمشا مسیح، آسیہ مسیح، روت مسیح یاں جمیلہ ہو تو اس کا نام بھی جمیلہ مسیح لکھا جاے گا۔ اس نے مزید کہا کہ محکمہ مال یعنی اراضی کے دفاتر اور پٹوار خانہ میں کسی کے نام میں زیر زبر کا فرق آ جاۓ تو وبال جان بن جاتا ہے مگر محکمہ پولیس میں قصدآ مسیحیوں کے نام کے آگے مسیح کیوں لگایا جاتا ہے؟ اور تو اور ہماری عدالتیں بھی پولیس کی اس سوچیں سمجھی غلطی کو من عن تسلیم کرتیں ہیں اور جمیلہ کا کیس جمیلہ مسیح کے نام سے چلے گا۔ میں نے اپنے ذہن میں فیصلہ کیا کہ بات تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ پھر نا جانے مجھے کیا کیا یاد آیا۔
مجھے اپنے بچپن کی یاد آئی میں لاہور میں پیدا ہوا اور شہر میں رہتے تھی میرے چچا نہایت خوبصورت اور بارعب آدمی تھے لیکن ہمارے محلے میں رہنے والے ان کو ان کے نام سے بلاتے تھے مگر مسلم برادری انہیں ” صاحب” کہہ کر بلاتی تھی۔ میں چھوٹا تھا مجھے سمجھ نہیں تھی بلکہ میں یہ ہی سمجھتا رہا کہ چونکہ میرے چچا پڑھے لکھے ہیں خوشنما لباس پہنتے ہیں گورے چٹے اور بارعب آدمی ہیں اس لیے مسلم برادری انہیں عزت سے صاحب کہ کر بلاتے ہیں۔ میرے چچا کا بیٹا مجھ سے کافی بڑا تھا اس کا نام تو پرویز تھا لیکن محلے کے مسلم لڑکے انہیں بھی صاحب کہہ کر بلاتے تھے۔ عمر کے اعتبار سے مجھے بھی سوال کرنا آ گیا تھا میں نے اپنے بھائی کو کئی مرتبہ پوچھا کہ بھائی یہ لڑکے آپ کو صاحب کہہ کر کیوں بلاتے ہیں جب کہ ہم نے آپ کو کبھی صاحب نہیں کہا؟ میرا بھائی مجھے ہر دفعہ ایک ہی جواب دیتا تم چھوٹے ہو ابھی تمہیں سمجھ نہیں آے گی۔ اگر وہ مجھے سمجھاتے بھی تو واقعی مجھے سمجھ نہیں آنی تھی۔ وہ تو اب راز کھلا کہ یہ عزت افزائی اور حفظ مراتب نہیں تھا بلکہ یہ خاص نشاندھی تھی کہ یہ شخص مسیحی ہے۔ جس مسیحی کو صاحب کہہ کر پکارا جاتا تو اس کی نشاندھی کی جاتی تھی کہ یہ مسیحی ہے اس کے ساتھ نپا تلا برتاؤ کرنا ہے، اس کے ساتھ دوستی نہیں رکھنی اور اس کے ساتھ کھانے پینے سے پرہیز کرنا ہے۔
قیام پاکستان کے فوراً بعد جو گاؤں آباد ہوے آپ دیکھیں گے کہ ہر ایک گاؤں میں مسیحیوں کی ابادی گاؤں کی آخری حد اور “چھپڑ” کے کنارے ہو گی۔ ان کا کنواں علحیدہ ہو گا۔
آج پاکستان 80 برس کا ہونے والا ہے مگر کچھ محکموں کے مزاج میں کوئ فرق نہیں آیا بلکہ عوام الناس کے مزاج بھی جوں کے توں ہیں۔ چند دن پہلے مجھے ایک کراے کے مکان کی ضرورت پڑ گئی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ کراۓ کا مکان حاصل کرنا کونسا مشکل کام ہے دو چار پراپرٹی ڈیلرز کو کہو تو کراے گا مکان مل جاے گا لیکن میری آنکھیں تب کھلیں جب میں اس مہم کے لیے نکلا تو مجھے پتا چلا کہ ایک مسیحی کے لیے کراے کا مکان حاصل کرنا جوۓ شیر لانے کے مترادف ہے۔ مجھے بہت سے مکان تو پسند آے لیکن مالکان مکان کو میں پسند نہیں آیا۔ میری ناپسندگی میری شکل و شباحت، میری گفتگو اور میری چال ڈھال نہیں بلکہ میرا مسیحی ہونا ہے۔ مجھے ایک مالک مکان نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم کافروں کو اپنا گھر کراۓ پر کیسے دے دیں۔ ایک نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ آپ کی گفتگو اور چال ڈھال بہت اچھی ہے لیکن آپ میں بس ایک ہی کم ہے کہ آپ مسیحی ہیں۔ پھر میں سب سے پہلے مالک مکان کو بتاتا کہ میں مسیحی ہوں اور آپ کا گھر کراے پر لینا چاہتا ہوں۔ کافی لوگوں کا انکار سننے کے بعد بڑی مشکل سے ایک کراے کا مکان ملا ۔
میں گیارہ اگست یوم اقلیت نہیں مناتا کیونکہ میں اکثریت اور اقلیت میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور برابر کے شہری ہیں لیکن یوم اقلیت منانے والوں اور اجازت دینے والوں سے درخواست ہے کہ یوم اقلیت بیشک نا منائیں مگر پرویز والٹر کو صاحب کہہ کر نا بلائیںں، جمیلہ بی بی کو جمیلہ بی بی ہی رہنے دیں اور منظور رفیق کو منظور ہی رہنے دیں۔

 

نوٹ: وائیٹ پوسٹ کے کسی بھی آرٹیکل، کالم یا تبصرے میں لکھاری کی ذاتی رائے ھے جس سے ادارے کا متفق ہونا قطعاً ضروری نہیں۔

By admin

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from دی وائیٹ پوسٹ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading